World
میکرون کی خلائی سربراہی کانفرنس ناکامی سے دوچار، اسپیس ایکس اور بلو اوریجن کا بائیکاٹ
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے بلائی گئی بین الاقوامی خلائی سربراہی کانفرنس کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب نامور خلائی کمپنیوں اسپیس ایکس اور بلو اوریجن نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس ناقص انتظامات کی حامل تقریب کو دنیا بھر میں ایک اور سفارتی اور انتظامی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ان کی جانب سے بلائی جانے والی بین الاقوامی خلائی سربراہی کانفرنس مبینہ طور پر شدید انتظامی نااہلی اور منصوبہ بندی کی کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کانفرنس کو اس وقت ایک بڑا اور شرمناک دھچکا لگا جب دنیا کی صف اول کی دو نجی خلائی کمپنیوں، ایلون مسک کی اسپیس ایکس اور جیف بیزوس کی بلو اوریجن نے اس اہم ایونٹ سے باضابطہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ ان دونوں بڑی کمپنیوں کی عدم شرکت نے اس سربراہی اجلاس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ناقص انداز میں مربوط کی گئی تقریب کو صدر میکرون کی ایک اور بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خلائی صنعت کے دو بڑے کھلاڑیوں کی جانب سے اس بائیکاٹ کی وجوہات فی الحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئیں، لیکن یہ بات عیاں ہے کہ اس سے فرانسیسی صدر کے سفارتی اور اقتصادی اثر و رسوخ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اس سربراہی اجلاس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر خلائی تعاون اور پالیسیوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا، تاہم اہم ترین صنعتی اداروں کی عدم موجودگی نے اس کی افادیت کو یکسر ختم کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ صورتحال فرانسیسی حکومت اور خود صدر میکرون کے لیے ہزیمت کا باعث بن رہی ہے جو اس تقریب کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریب کے منتظمین رابطے اور مشاورت میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے یہ اہم ترین نجی ادارے اس عالمی ایونٹ سے لاتعلق ہو گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فرانسیسی انتظامیہ اس نقصان کو پورا کرنے اور اس متنازعہ سربراہی کانفرنس کو کسی قابلِ ذکر نتیجے تک پہنچانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔