Technology
ٹارگٹ اسٹورز کی ٹوکریاں اور بلوٹوتھ ٹریکنگ کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک دعوے میں کہا گیا ہے کہ معروف امریکی ریٹیلر ٹارگٹ کی شاپنگ ٹوکریاں بلوٹوتھ کے ذریعے اسٹور کے اندر صارفین کی نگرانی کرتی ہیں۔ ماہرین اور کمپنی کی جانب سے اس معاملے کی حقیقت واضح کر دی گئی ہے تاکہ صارفین کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔
حالیہ چند مہینوں کے دوران سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ تیزی سے وائرل ہوا کہ امریکہ کے معروف ریٹیل اسٹور نیٹ ورک 'ٹارگٹ' (Target) کی جانب سے شاپنگ ٹوکریوں میں ایسی بلوٹوتھ ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں جو اسٹور کے اندر موجود صارفین کی ہر حرکت کو ٹریک کرتی ہیں۔ اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد صارفین میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور نجی نوعیت کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جانے لگے۔ صارفین کا یہ ماننا تھا کہ ریٹیل کمپنیاں بغیر اجازت ان کی ذاتی معلومات اور شاپنگ کے معمولات کو مانیٹر کر رہی ہیں۔
تاہم، جب اس معاملے کی حقیقت کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ ریٹیل ماہرین اور خود کمپنی کے ذرائع کے مطابق، ٹارگٹ اسٹورز میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کی جا رہی جو کسی انفرادی خریدار کی شناخت یا اس کے فون کو براہ راست بلوٹوتھ کے ذریعے ٹریک کر سکے۔ عام طور پر اس قسم کی افواہیں جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ ریڈیو فریکوینسی آئیڈنٹیفیکیشن یا بلوٹوتھ بیکنز کے غلط فہم اور غلط تشریح کی وجہ سے جنم لیتی ہیں، جن کا مقصد صرف اسٹور کے اندر اشیاء کی انوینٹری کا انتظام کرنا ہوتا ہے نہ کہ صارفین کی جاسوسی کرنا۔
اس طرح کے سنسنی خیز دعوے اکثر سوشل میڈیا پر بغیر کسی مصدقہ تحقیق کے وائرل ہو جاتے ہیں، جن کا مقصد صرف آن لائن ٹریفک اور ویوز حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ایسی خبر پر فوراً یقین کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے کے موقف اور مستند ذرائع کی تحقیق ضرور کر لینی چاہیے۔ ٹارگٹ کی جانب سے بھی اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ وہ اپنے خریداروں کی پرائیویسی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور ان کا نظام مکمل طور پر قوانین کے دائرے کے اندر رہ کر کام کرتا ہے۔
آخر کار، صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے ہوشیار رہیں لیکن اس طرح کی بے بنیاد افواہوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ٹیکنالوجی کے دور میں ہر سمارٹ ڈیوائس یا سگنل کو جاسوسی کا آلہ سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر معلومات کو تسلیم کرنے سے پہلے اس کی تکنیکی حقیقت کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔