LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین جنگ: امریکی ایلچی بغیر کسی معاہدے کے کیف سے روانہ

News Image
امریکی ایلچی کیف کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بغیر کسی حتمی پیشرفت کے واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ صدر زیلنسکی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی نمائندوں سے بات چیت کے باوجود جنگ طویل ہو سکتی ہے۔
یوکرین کے دورے پر آئے ہوئے امریکی ایلچی بغیر کسی بڑی یا حتمی کامیابی کے کیف سے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل تنازعے کے خاتمے کے لیے راہیں تلاش کرنا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنا تھا۔ تاہم فریقین کے مابین جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی بڑا پیشرفت سامنے نہیں آ سکی ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دورے کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے باوجود یہ جنگ فی الحال جاری رہے گی۔ صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ تنازعے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق امریکی ایلچی اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کر چکے ہیں، جہاں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد فریقین کو مذاکراتی میز پر لانا اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے تاکہ خطے میں خون خرابے کو روکا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق، اگرچہ سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں لیکن ماسکو اور کیف کے درمیان پوزیشنز میں اب بھی وسیع خلیج حائل ہے، جس کی وجہ سے جنگ کے فوری خاتمے کے امکانات بہت کم ہیں۔ عالمی رہنما صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید سفارتی رابطے متوقع ہیں تاکہ امن کی جانب کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔