Business
امریکہ ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال سے سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور حملے ہیں۔ اس صورتحال نے توانائی کے ماہرین اور سرمایہ کاروں میں سپلائی کے طویل المدتی تعطل کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ حالات اور آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے تیل کے نرخ تیزی سے اوپر جا رہے ہیں اور برینٹ کروڈ آئل سمیت ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمتیں 97 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حملوں نے اس خطے میں رسک پریمیم کو کافی بلند کر دیا ہے۔ توانائی کی منڈیوں سے وابستہ کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی منڈی میں افراط زر کے دباؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے کیونکہ تیل مہنگا ہونے سے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین آئندہ ہفتوں میں بھی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور تمام تر نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ سفارتی سطح پر اس بحران کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ دریں اثنا، کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع کسی بڑی جنگ میں تبدیل ہوا تو تیل کی سپلائی کا بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کے صنعتی اور تجارتی شعبوں پر پڑیں گے۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار کی جا سکے، تاہم فی الحال منڈی میں غیر یقینی کی فضا بدستور برقرار ہے۔