Pakistan
قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کا سفاری کلب انٹرنیشنل کے گالا ڈنر سے خطاب
قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے گالا ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے جنگلات اور حیاتِ وحش کے تحفظ کے لیے مربوط اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر قدرتی رہائش گاہوں کو بچانے کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیا۔
اسلام آباد: قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے سفاری کلب انٹرنیشنل، پاکستان چیپٹر کے انٹرنیشنل کنزرویشن فنڈ ریزر گالا ڈنر 2026 میں خصوصی شرکت کی اور اس موقع پر ایک گروپ فوٹو بھی بنوایا۔ اس تقریب میں سابق وفاقی و صوبائی وزیر سید صمصام بخاری سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، جہاں ملک میں جنگلات اور حیاتِ وحش کے تحفظ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تقریب کے دوران مقررین نے پاکستان کے قدرتی وسائل اور نایاب جنگلی حیات کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
تقریب سے خطاب اور شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ جنگلات اور حیاتِ وحش کا تحفظ کسی ایک ادارے یا فرد کی تنہا ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر مشترکہ اور مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن اور متنوع جنگلی حیات سے مالا مال ہے، لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر خطرات کی وجہ سے انمول اثاثے خطرے سے دوچار ہیں، جنہیں بچانے کے لیے فوری عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
تقریب کے دوران دیگر رہنماؤں، بشمول اسپیکر قومی اسمبلی ایاز سadiq نے بھی جنگلات اور قدرتی رہائش گاہوں کے تحفظ کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے سبزہ زاروں کو محفوظ بنانے کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی۔ مقررین کا ماننا تھا کہ اس قسم کے فنڈ ریزنگ ایونٹس نہ صرف ماحولیاتی بیداری پیدا کرتے ہیں بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر میں، تقریب کے شرکاء اور منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے اور حیاتِ وحش کے تحفظ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ قائم مقام صدر نے سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی تعمیری سرگرمیاں جاری رکھیں گے تاکہ ملک کے قدرتی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر ہو سکے۔