World
اسرائیلی غزا بے دخلی کے منصوبے، مسلم بلاک کا ٹرمپ امن کے لیے خطرہ قرار
پاکستان سمیت آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے اسرائیلی وزراء کے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے اسرائیلی وزراء کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کے بیانات اور تجاویز پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے کے پائیدار امن کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں، خاص طور پر اس وقت جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے نئی کوششیں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے بارہا سامنے آنے والے ایسے منصوبے خطے کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، جن آٹھ مسلم ممالک نے ان اسرائیلی تجاویز کی مذمت کی ہے ان میں پاکستان بھی پیش پیش ہے۔ ان ممالک کا متفقہ مؤقف ہے کہ غزہ کے باسیوں کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کے وزراء کی طرف سے غزہ سے جبری ہجرت اور دوبارہ آباد کاری کے جو بیانات دیے جا رہے ہیں، وہ نہ صرف انسانی حقوق کے منافی ہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہیں۔
دوسری جانب، غزہ کے فلسطینیوں نے بھی ان تمام تجاویز اور منصوبوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جن کا مقصد انہیں ان کے آبائی وطن سے باہر دھکیلنا ہے۔ فلسطینی عوام کا عزم ہے کہ وہ ہر قیمت پر اپنے گھروں اور سرزمین پر قائم رہیں گے۔ ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اندر سے آنے والے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں امن معاہدوں کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ مسلم بلاک کی جانب سے اس سخت ردعمل کے بعد عالمی سطح پر بھی اسرائیل پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ اس طرح کی غیر قانونی اور خطرناک پالیسیوں کو روکا جا سکے۔