LIVE
Loading Breaking News...

سنگل سلاٹ RTX 3060 گرافکس کارڈ متعارف، کارکردگی میں GTX 1060 سے پیچھے

News Image
چین میں ایک غیر معمولی سنگل سلاٹ این ویڈیا RTX 3060 گرافکس کارڈ متعارف کرایا گیا ہے جو بیرونی پاور کنیکٹر کے بغیر صرف PCIe سلاٹ کی بجلی پر کام کرتا ہے۔ تاہم، بجلی کی کم کھपت کی وجہ سے اس کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا ہے اور یہ پرانے GTX 1060 سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں چین کی ہارڈ ویئر مارکیٹ ہمیشہ سے اپنے انوکھے اور غیر روایتی تجربات کے لیے جانی جاتی ہے۔ حال ہی میں چینی مارکیٹ میں این ویڈیا کے مشہور زمانہ گرافکس کارڈ جی فورس RTX 3060 کا ایک ایسا انیک ورژن سامنے آیا ہے جو ڈیزائن اور بجلی کے استعمال کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ یہ گرافکس کارڈ سنگل سلاٹ ڈیزائن پر مشتمل ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کمپیوٹر کے اندر بہت کم جگہ گھیرتا ہے اور اسے چھوٹے سائز کے کیسنگز میں باآانی نصب کیا جا سکتا ہے۔ اس نئے گرافکس کارڈ کی سب سے بڑی اور حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے کسی قسم کے اضافی ایکسٹرنل پاور کیبل یا کنیکٹر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ عام طور پر RTX 3060 کو بجلی کی فراہمی کے لیے پاور سپلائی سے اضافی کیبلز لگانا پڑتی ہیں، لیکن یہ چینی مارکیٹ کا ماڈل مدر بورڈ کے پی سی آئی ای (PCIe) سلاٹ سے ملنے والی بجلی پر ہی مکمل طور پر کام کرتا ہے۔ اس جدت کا بنیادی مقصد بجلی کی کھپت کو کم کرنا اور پیچیدہ وائرنگ سے جان چھڑانا تھا، تاکہ چھوٹے سسٹمز کے لیے اسے بہترین بنایا جا سکے۔ تاہم، یہ سہولت ایک بڑی قیمت پر حاصل ہوئی ہے اور وہ ہے گرافکس کارڈ کی مجموعی کارکردگی۔ جب اس سنگل سلاٹ RTX 3060 کی بینچ مارکنگ اور ٹیسٹنگ کی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ بجلی کی محدود فراہمی کی وجہ سے اس کی جی پی یو کور اور میموری کی کارکردگی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ یہ جدید آر ٹی ایکس کارڈ کارکردگی کے ٹیسٹ میں اپنے سے کئی سال پرانے اور سستے گرافکس کارڈ این ویڈیا GTX 1060 سے بھی پیچھے رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق، یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہارڈ ویئر میں ہندسوں کی طاقت اور جدید فیچرز کا ہونا ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بلکہ مناسب پاور سپلائی اور کولنگ کا نظام بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگرچہ یہ سنگل سلاٹ کارڈ ان صارفین کے لیے ایک دلچسپ چیز ہو سکتا ہے جو کم جگہ اور کم بجلی والے سسٹمز کے خواہشمند ہیں، لیکن جو گیمرز یا پروفیشنلز بہترین کارکردگی کے متلاشی ہیں، ان کے لیے یہ کارڈ قطعی طور پر مناسب ثابت نہیں ہوگا۔ مستقبل میں دیکھنا یہ ہے کہ آیا چینی مینوفیکچررز اس ڈیزائن میں مزید بہتری لا پاتے ہیں یا نہیں۔