World
جرمنی میں اے ایف ڈی کی جیت اور یورپی سیاست پر اثرات
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی حالیہ علاقائی کامیابی نے یورپی یونین اور روایتی سیاسی جماعتوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بی بی سی کی یورپ ایڈیٹر کٹیا ایڈلر کے مطابق یہ نتائج یورپی سیاست میں ایک اہم اور خطرناک موڑ کی عکاسی کرتے ہیں۔
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت 'الٹرنیٹو فار جرمنی' (اے ایف ڈی) کی جانب سے ملک کے ایک صوبے میں حاصل کی جانے والی تاریخی کامیابی نے پورے یورپ کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس پیش رفت پر یورپی یونین کے رہنماؤں اور جرمنی کی روایتی سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ نتائج جرمنی کے روایتی جمہوری ڈھانچے اور یورپی سیاست کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہیں۔
بی بی سی کی یورپ ایڈیٹر کٹیا ایڈلر کا کہنا ہے کہ جرمنی کے صوبے سیکسنی انہالٹ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی یہ فتح کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ پورے براعظم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کے مطابق، روایتی سیاسی جماعتیں ووٹرز کے بڑھتے ہوئے تحفظات کو دور کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں، جس کا براہ راست فائدہ انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست قوتوں کو مل رہا ہے۔ عوام میں مہنگائی، تارکین وطن اور اقتصادی چیلنجز کے حوالے سے جو بے چینی پائی جاتی ہے، اسے اے ایف ڈی نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔
یورپی دارالحکومتوں میں اس بات کا گہرا ادراک کیا جا رہا ہے کہ اگر جرمنی جیسی مضبوط معیشت اور جمہوریت میں اس قسم کی شدت پسند سوچ جڑ پکڑتی ہے، تو یہ دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی ایک خطرناک رجحان ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کے کئی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی انتہا پسندانہ سیاست سے یورپی اتحاد کے بنیادی اقدار اور یکجہتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے اب مشترکہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
آنے والے دنوں میں جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ چیلنج مزید بڑھ جائے گا کہ وہ کس طرح عوام کے معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ دائیں بازو کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر روایتی جماعتوں نے اپنی پالیسیوں میں فوری تبدیلیاں نہ کیں، تو اس قسم کی کامیابیاں مستقبل میں قومی سطح پر بھی دہرائی جا سکتی ہیں، جو یورپ کے موجودہ سیاسی نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی۔