World
آسٹریا میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا نفاذ اور تفصیلات
آسٹریا میں اسکولوں کی واپسی کے ساتھ ہی چودہ سال سے کم عمر طالبات کے لیے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا قانون باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد کم عمر بچیوں کے حقوق کا تحفظ ہے جبکہ ناقدین اسے اسلام فوبیا قرار دے رہے ہیں۔
آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز اور طلباء کی اسکولوں میں واپسی کے ساتھ ہی ایک متنازع قانون باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت چودہ سال سے کم عمر طالبات کے لیے اسکولوں میں اسلامی حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف طبقات کی جانب سے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آسٹرین حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کو نافذ کرنے کا بنیادی مقصد کم عمر بچیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں سماجی دباؤ سے بچانا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بچیوں کی نشوونما کے اس نازک مرحلے پر ان پر مذہبی یا سماجی روایات کا بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہیے تاکہ وہ آزادانہ ماحول میں اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ دوسری طرف ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کی شدید مذمت کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے اور اس سے معاشرے میں مسلم مخالف جذبات کو مزید ہوا ملے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے پابندی والے قوانین اقلیتوں کو الگ تھلگ کرنے اور معاشرتی خلیج کو چوڑا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد آسٹریا میں مقیم مسلمان کمیونٹی اور لبرل حلقوں کے درمیان کشمکش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ قانون کے حامی اور مخالفین اپنے اپنے دلائل کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے کیونکہ شہری حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہیں۔