World
انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ اور رضاکاروں کی کوششیں
انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو میں پیٹ لینڈز میں لگنے والی آگ سے قدیم کاربن کا ذخیرہ فضا میں خارج ہو رہا ہے، جس سے پورے جنوب مشرقی ایشیا میں زہریلا دھواں پھیل رہا ہے۔ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آگ بجھانے والے مقامی رضاکار اس ماحولیاتی تباہی کو روکنے کے لیے دن رات جدوجہد کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا کے سرسبز جزیرے بورنیو کے جنگلات میں لگنے والی پراسرار اور خوفناک آگ نے ایک بار پھر ماحولیاتی ماہرین اور مقامی حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ یہ آگ محض عام درختوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ زمین کے نیچے موجود پیٹ لینڈز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جو ہزاروں سال پرانے کاربن کے بہت بڑے قدرتی ذخائر ہیں۔ ان ذخائر کے جلنے سے فضا میں خطرناک مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو رہی ہے، جسے سائنسدان کاربن بم قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس کی وجہ سے اٹھنے والا زہریلا دھواں پڑوسی ملکوں تک پھیل کر سنگین صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی رضاکاروں کی ایک ٹیم نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ رضاکار انتہائی محدود وسائل اور خطرناک حالات کے باوجود آگ کے بڑے بڑے شعلوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ زمین میں موجود چنگاریوں کو بجھانے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں تاکہ کاربن کے مزید اخراج کو روکا جا سکے اور زہریلے دھوئیں سے انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ ان رضاکاروں کے پاس جدید آلات کی کمی ہے، لیکن ان کا عزم اور حوصلہ بلند ہے جو اس ماحولیاتی بحران کے خلاف جنگ میں امید کی واحد کرن دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان جنگلات کی آگ پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کے موسم اور آب و ہوا پر مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ انڈونیشیا کے ان قیمتی جنگلات کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے اور رضاکاروں کی مالی و تکنیکی مدد کی جا سکے۔