Technology
آسٹریلیا میں سوشل میڈیا الگورتھم بند کرنے کا نیا قانون زیر غور
آسٹریلوی حکومت نے ایک نیا قانون لانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صارفین کو سوشل میڈیا پر اپنی مرضی کے الگورتھم بند کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ایک اہم قانون سازی کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جس کا مقصد سوشل میڈیا کے صارفین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی مرضی کے الگورتھم بند کرنے کا اختیار فراہم کرنا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت میٹا، گوگل اور ٹک ٹاک جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے صارفین کو یہ سہولت فراہم کریں کہ وہ اپنی فیڈز کو الگورتھم کے اثرات سے آزاد کر سکیں۔ وزیر متعلقہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ کمپنیاں صارفین کو یہ آپشن دینے میں ناکام رہیں تو انہیں بھاری اور نمایاں جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے انسانی نفسیات اور بالخصوص نوجوانوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نشہ آور فیڈز اور مخصوص الگورتھم صارفین کو طویل عرصے تک اسکرین سے باندھے رکھتے ہیں جس سے ذہنی صحت اور معاشرتی رویوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ اقدام اسی سمت میں ایک بڑا قدم ہے تاکہ ڈیجیٹل دنیا کو صارفین کے لیے زیادہ محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے، جہاں افراد خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ کس قسم کا مواد دیکھنا چاہتے ہیں۔
مجوزہ قوانین کے مسودے کے مطابق، حکومت کا مقصد ٹیکجنٹس (tech giants) کی اجارہ داری کو محدود کرنا اور صارفین کو ڈیجیٹل خودمختاری دینا ہے۔ قانون کے نفاذ کے بعد کمپنیوں کو اپنے سسٹمز میں فنی تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاکہ وہ صارفین کو ایک کلک پر الگورتھم سے پاک فیڈز مہیا کر سکیں۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں عائد ہونے والے جرمانے اتنے بڑے ہوں گے کہ کمپنیاں اسے نظر انداز نہیں کر سکیں گی۔
بین الاقوامی سطح پر اس قانون کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اگر آسٹریلیا اس قانون کو کامیابی سے نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے سخت ضابطے لا سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری کی جانب سے اس پر ردعمل کا انتظار ہے، تاہم حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ صارفین کے حقوق اور تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی اور ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔