World
غزہ میں اسکول کے پہلے دن اسرائیلی حملے میں بچی اور والد شہید
غزہ میں اسکول کے پہلے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں آٹھ سالہ بچی اپنے والد کے ہمراہ جاں بحق ہو گئی۔ اس دلخراش واقعے نے علاقے میں جاری کشیدگی اور معصوم شہریوں کی مشکلات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
غزہ میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے دوران ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں اسکول کے پہلے ہی روز ایک آٹھ سالہ معصوم بچی اپنے والد کے ہمراہ اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچی اپنے اسکول کے پہلے دن کے لیے پرجوش تھی اور اپنے والد کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو کر تعلیمی ادارے کی طرف روانہ ہو رہی تھی۔ اس اچانک اور شدید حملے نے نہ صرف ایک خاندان کو تباہ کر دیا بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے معصوم شہریوں پر پڑنے والے ہولناک اثرات کو بھی ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اس حملے نے اسکول جانے والی اس بچی کے روشن مستقبل اور اس کی تمام امیدوں کو پل بھر میں خاک میں ملا دیا۔ بچی نے اسکول کے پہلے دن کے لیے نئی تیاریاں کی تھیں اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پرعزم تھی، مگر تنازعات کی نذر ہونے والی یہ زندگی اب دنیا کے لیے ایک اور بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور شہری اس قسم کے حملوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کر رہے ہیں، جہاں تعلیم کے حصول کے لیے جانے والے معصوم بچوں کو بھی سلامتی اور تحفظ حاصل نہیں ہے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں سوگوار فضا قائم ہے اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حملے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور باپ بیٹی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ماہرینِ تعلیم اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ تنازعات کے دوران تعلیمی اداروں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی برداری کی ذمہ داری ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی تلخ اور دردناک ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے تاکہ مزید معصوم جانیں اس تنازع کی بھینٹ نہ چڑھیں۔