World
کینیا میں غیر ملکی تاجروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن اور صدر روٹو کا بیان
کینیا کے صدر ولیم روٹو نے اعلان کیا ہے کہ چھوٹے کاروبار صرف مقامی شہریوں کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔ حکومت نے غیر ملکی تاجروں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔
کینیا کی حکومت نے ملک میں غیر ملکی تاجروں اور چھوٹے ریٹیلرز کے خلاف ایک سخت کریک ڈاؤن کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد مقامی شہریوں کو چھوٹے کاروباروں میں زیادہ مواقع فراہم کرنا اور ملکی معیشت کے اندرونی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ چھوٹے درجے کی تجارت پر مقامی افراد کا حق ہے تاکہ بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے اور مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہو۔کینیا کے صدر ولیم روٹو نے اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے پیمانے کے کاروبار صرف کینیا کے شہریوں کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت غیر ملکی تاجروں کیخلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مقامی مارکیٹ میں کینیا کے عوام کو ان کا جائز حق مل سکے۔ صدر روٹو کے اس بیان کے بعد انتظامیہ نے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر کاروبار کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف چھاپے مارنے اور وارننگ جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اس اقدام سے جہاں ایک طرف مقامی تاجروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اسے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بہترین قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بعض حلقوں کی طرف سے اس پالیسی پر خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس قسم کے سخت اقدامات سے بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، کینیا کی موجودہ حکومت کا عزم ہے کہ وہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مقامی تاجروں کے مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے گی۔ آنے والے دنوں میں اس کریک ڈاؤن کے مزید کیا اثرات سامنے آتے ہیں، اس پر ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کی نظریں مرکوز ہیں۔