World
شمالی کوریا کا نیا جنگی جہاز، جوہری ردعمل کا نظام مضبوط
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ایک نئے طاقتور جنگی جہاز کی بحریہ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ یہ جنگی جہاز ملک کے جوہری ردعمل کے نظام کا حصہ بنے گا اور بحری افواج کو مزید تقویت دے گا۔
پانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ایک ایسے نئے جنگی جہاز کی بحریہ میں تعیناتی کا اعلان کیا ہے جو مبینہ طور پر جوابی حملوں کو مکمل طور پر نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اہم قدم کا مقصد ملک کی بحری افواج کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں دفاعی پوزیشن کو بلند کرنا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ نیا بحری جہاز ملک کے ایٹمی اور جوہری ردعمل کے نظام کا ایک لازمی حصہ بنے گا۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی عسکری صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشمنوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت یا جوابی کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایسے جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور تعیناتی ناگزیر ہو چکی ہے۔
عالمی سطح پر تجزیہ کار اس پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ کورین جزیرہ نما میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ مہینوں میں اپنی فوجی اور جوہری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے خطے کے امن کو نئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگی جہاز جدید ترین میزائل اور دفاعی ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو کسی بھی بحری یا فضائی حملے کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے اس قسم کے اقدامات اس عزم کا اعادہ ہیں کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔