LIVE
Loading Breaking News...

صدر آصف علی زرداری کا دورہ لندن اور نئے صوبوں پر سیاسی تنازعہ

News Image
صدر آصف علی زرداری کے طویل دورہ لندن اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے نئے صوبوں کی مخالفت اور سندھ اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اسلام آباد میں نئے صوبوں کے قیام کے مباحثے اور پیپلز پارٹی کی طرف سے اس تجویز کی کھلی مخالفت کے درمیان صدر آصف علی زرداری کی لندن میں طویل موجودگی نے اس دورے کے سیاسی تناظر پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی، جنہوں نے حال ہی میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا یہ خیال پیش کیا تھا، وہ بھی اسی دوران برطانیہ میں موجود تھے۔ اگرچہ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ صدر نے یہ دورہ صرف طبی معائنے کے لیے کیا، تاہم دوسرے فریق اسے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک سیاسی چال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کے ساتھ صدر زرداری کی ملاقات کی سرکاری ویڈیو سامنے آنے کے بعد صدر کے مؤقف پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محسن نقوی نے ہی موجودہ نظامِ حکومت کے خاتمے کی بات کرتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کیا تھا اور اسلام آباد کو بھی صوبائی حیثیت دینے پر مباحثے کی دعوت دی تھی۔ صدر کے اس دورے کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے بھی لندن میں صدر زرداری سے ملاقاتیں کیں، جن کے بعد سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف ایک قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی گئی۔ اس تمام سیاسی تسلسل نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کا تعین ان ہی ملاقاتوں میں ہوا اور سندھ اسمبلی کی قرارداد صدر کی رضامندی سے لائی گئی۔ غیر ملکی دفتر کی بریفنگ میں بھی اس 'یورو ٹرپ' اور وزیر داخلہ و قانون وزیر سے ملاقاتوں کے حوالے سے سوالات کیے گئے، تاہم ترجمان نے معاملے کو ایوانِ صدر پر چھوڑ دیا۔ دوسری طرف، پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر کا دورہ مکمل طور پر طبی نوعیت کا تھا اور اس میں کوئی سیاسی رنگ نہیں ہے، جبکہ وزیر داخلہ سے ملاقات کو خیریت دریافت کرنے تک محدود قرار دیا گیا۔ تاہم، پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے سیاسی مقاصد بھی تھے اور چیئرمین بلاول بھutto زرداری سمیت دیگر قریبی شخصیات نے بھی صدر سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، صدر زرداری نے حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی پارٹی ملک میں مزید صوبوں کی تقسیم کے خلاف ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے باوجود پیپلز پارٹی کی حمایت کی ضرورت ہے، اور اگر پیپلز پارٹی نے ساتھ چھوڑا تو کوئی بھی آئینی ترمیم مشکل ہو جائے گی۔ مزید برآں، اتحادی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان نے بھی حکومتی کارکردگی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر کھل کر تنقید کی ہے، جس سے موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام پر سوالیہ نشان مزید گہرے ہو گئے ہیں۔