Pakistan
کے پی کے وزیراعلیٰ کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی کا جلسہ اور احتجاجی تحریک
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے بعد کراچی ٹول پلازہ پر پہنچ کر پی ٹی آئی کی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے 27 ستمبر کی احتجاجی تحریک اور عمران خان کی رہائی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ طویل اور کٹھن سفر کے بعد پیر کی ابتدائی ساعتوں میں کراچی ٹول پلازہ پہنچ گئے جہاں ان کے قافلے کو متعدد مقامات پر حکومتی رکاوٹوں اور بند سڑکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حیدرآباد اور عمرکوٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر چھ گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ پارٹی کے مطابق انتظامیہ نے قافلے کو روکنے کے لیے راستوں میں کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ ٹول پلازہ پر پہنچنے پر جیالے کارکنوں، خواتین اور بچوں نے آتش بازی اور بھرپور نعرے بازی کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ اور دیگر مرکزی رہنما بھی موجود تھے جو سندھ میں پانچ روزہ عوامی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ مہم 27 ستمبر کو ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی کال کا حصہ ہے جس کا مقصد سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور ان کے بہتر طبی علاج کا مطالبہ کرنا ہے۔ کراچی آنے سے قبل حیدرآباد میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے متنازع بیان پر سخت تنقید کی اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے حوالے سے اس قسم کے بیانات ناقابل قبول ہیں اور اس معاملے پر واضح موقف سامنے آنا چاہیے۔ حیدرآباد اور عمرکوٹ کے دوروں کے دوران انہوں نے نوجوانوں اور عوام کو بھرپور انداز میں 27 ستمبر کی تحریک کا حصہ بننے کی دعوت دی اور عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک سندھ سے واپس نہیں جائیں گے۔ کراچی میں ضلعی انتظامیہ اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظر تحریک انصاف کو اپنے جلسے کی جگہ مزار قائد سے تبدیل کر کے ٹول پلازہ کرنا پڑی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت نے پولیس کے ذریعے راستے بند کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود کارکنوں نے پرعزم انداز میں تمام رکاوٹوں کو عبور کیا۔ دوسری جانب کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے تحریک انصاف کے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے کوئی جان بوجھ کر رکاوٹیں نہیں ڈالی گئیں اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہر سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے کی آزادی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔