World
اقوام متحدہ کی رپورٹ: جنگلات کی آگ اور گرم لہروں سے فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ
اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایم او کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگلات کی آگ اور ہیٹ ویوز فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ خطرناک موسمی کیفیات دنیا بھر میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جنگلات میں لگنے والی آگ اور شدید گرمی کی لہریں (ہیٹ ویوز) ہوا کے معیار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زمین پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان خطرناک رجحانات کو مزید ہوا دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگلات کی آگ سے اٹھنے والا دھواں اور نقصان دہ ذرات کرہ ارض پر فضائی آلودگی میں بے پناہ اضافے کی وجہ بن رہے ہیں۔ اس آلودگی کی وجہ سے نہ صرف سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں بلکہ دنیا بھر میں صاف ہوا کے حصول کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا اور ہوا کے معیار کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور ایک کا بگاڑ دوسرے کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔
ڈبلیو ایم او کے ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے۔ اگر بروقت حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے کروڑوں افراد زہریلی ہوا اور شدید گرمی کے منفی اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف کو بھی نقصان پہنچے گا۔