World
يمن تنازعہ: جھڑپوں ميں ہلاکتیں 300 سے زائد، شہریوں کی نقل مکانی
يمن ميں جاری مسلح تصادم کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تشدد کی اس تازہ لہر کے بعد ہزاروں بے گناہ شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔
يمن ميں جاری خونی جھڑپوں اور پرتشدد واقعات کے نتيجے ميں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں ميں ہونے والے ان مسلح تصادمات نے عام شہریوں کی زندگیوں کو انتہائی خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے آبائی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ شہری گولہ باری اور فضائی خطرات سے بچنے کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں پہلے سے ہی امدادی اشیا اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے ہسپتالوں اور پانی کی فراہمی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور مبصرین نے یمن کی اس تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے فوری طور پر لڑائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی اور متاثرہ آبادی کے لیے امدادی راہداریوں کو بحال نہ کیا گیا تو جانی نقصان میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، نقل مکانی کرنے والے افراد کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جنہیں فوری طور پر خوراک، طبی امداد اور سر چھپانے کے لیے جگہ کی اشد ضرورت ہے۔