Politics
جماعت اسلامی کا دھرنا، پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کیخلاف احتجاج جاری
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کیخلاف ملک بھر میں دھرنا جاری رکھا ہوا ہے اور حکومت سے مذاکرات کل متوقع ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبات پورے نہ ہونے پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تنبیہ کی ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور ملک میں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی دھرنا تاحال جاری ہے۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوام کی بڑی تعداد اس احتجاج میں شریک ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی اور شٹر ڈاؤن ہڑتال نے عوام کے شدید غصے کو ظاہر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اہم مذاکرات کل منعقد ہوں گے جن میں احتجاجی دھرنے کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر حکومت کو کڑے الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر عوام پر سے پیٹرولیم لیوی کا اضافی بوجھ کم نہ کیا گیا اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس دھرنے کو ایک وسیع تر تحریک میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام کا جینا محال ہو چکا ہے اور جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر موجود ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں اور کاروباری برادری کی طرف سے بھی مہنگائی کے اس طوفان اور ٹیکسوں کے انبار پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ہونے والی ہڑتالوں نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کل ہونے والے مذاکرات میں کوئی مثبت اور قابلِ عمل حل سامنے نہ آیا تو سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور جماعت اسلامی کا احتجاج ملک بھر میں مزید پھیل سکتا ہے۔