Pakistan
پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی کی تردید، اسلام آباد کا دوٹوک مؤقف
پاکستان نے کابل کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی اور تمام امور پر دو طرفہ تعاون ناگزیر ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے کابل کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی افغان پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے فریقین کو سفارتی اصولوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اسلام آباد کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جانب سے سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے حوالے سے بیانات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ مبصرین کے مطابق اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ملکوں کو باہمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال جاری رکھنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان مہمانوں کی میزبانی اور خطے میں امن کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، وہ خطے کے مفاد میں ہے۔ اسلام آباد کی یہ پالیسی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، اور پاکستان اس اصول پر سختی سے کاربند ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان رابطے متوقع ہیں تاکہ اس قسم کے غلط فہمیوں اور بے بنیاد الزامات کا سدباب کیا جا سکے اور دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔