LIVE
Loading Breaking News...

پشاور: طلباء کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت

News Image
پشاور میں طلباء کے ایک اجتماع کے دوران ملک کی ترقی اور بہتر انتظامی امور کے لیے نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث جاری ہے اور مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔
پشاور میں تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباء نے ایک مباحثے اور اجتماع کے دوران ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو ملکی ترقی اور انتظامی بہتری کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ موجودہ بڑے صوبوں کے انتظامی امور کو بہتر طریقے سے چلانے اور نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس اقدام سے پسماندہ علاقوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب، ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی گهما گہمی بھی عروج پر ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) نے نئے انتظامی یونٹس کو پاکستان کی قسمت قرار دیتے ہوئے اس کی پرزور حمایت کی ہے، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر ریفرنڈم کرانے کی تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ موضوع ملک میں ایک طویل عرصے سے زیر بحث رہا ہے اور اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے اس حوالے سے کڑے الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ عوام کی رضامندی کے بغیر سندھ یا کسی بھی دوسرے صوبے کی تقسیم سے وفات کمزور ہوگا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ انتظامی اصلاحات کے نام پر ملکی نقشے کو تبدیل کرنا اور وفاق کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور ایسے فیصلے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اس تمام صورتحال میں جہاں طلباء اور بعض سیاسی جماعتیں انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل چاہتی ہیں، وہیں دیگر جماعتیں اس عمل کو عوامی مشاورت اور اتفاق رائے سے مشروط کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے یہ بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے، کیونکہ اس مسئلے پر عوام، طلباء اور سیاسی قیادت کے الگ الگ نکتہائے نظر سامنے آ رہے ہیں۔