LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران جنگی کشیدگی، سمندری ٹینکرز پر حملے

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں شدت آ گئی ہے جہاں دونوں فریقین نے سمندری حدود میں ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں تین ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت ایک انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گذشتہ چھ ماہ سے جاری اس کشیدگی میں شدت اس وقت دیکھی گئی جب خلیجی اور سمندری علاقوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے تین ایرانی آئل ٹینکرز کو جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر اس وقت کی گئی جب ایرانی فورسز کی جانب سے امریکی بحری جہازوں اور طیارہ بردار بحری بیڑے پر میزائل داغے گئے تھے۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر مبینہ حملے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے تند و تیز ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ توانائی کی فراہمی کے اس اہم ترین بحری راستے پر ہونے والے ان حملوں سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ تنازع اب ایک باقاعدہ عسکری تصادم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کے پہلے سے دگرگوں حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب، تہران اور واشنگٹن دونوں کی طرف سے اپنی دفاعی پوزیشن کو مزید سخت کرنے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں اس محاذ آرائی کے مزید طول پکڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔