Business
مشرق وسطیٰ تنازع: خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں میں شدت آنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ سپلائی کے تعطل کے خدشات نے عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے خطے میں بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ مزید تیز ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 120 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور سرمایہ کاروں میں سپلائی کے شدید تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس خطے میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بلومبرگ اور دیگر معتبر ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی تیل کی ترسیل اس وقت سخت خطرات کی زد میں ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ کشیدگی نے دنیا بھر کی انرجی مارکیٹس کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) اور برینٹ آئل کے خریدار مارکیٹ کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی ناگوار واقعے سے قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ سپلائی کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے آنے والے دنوں میں تیل کی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ ماہرین معاشیات اور انرجی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی اور بحری راستے متاثر ہوتے رہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر صنعتیں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور عام صارفین اس ممکنہ بحران کے براہ راست اثرات کا سامنا کریں گے۔ حکومتوں اور عالمی اداروں کی جانب سے اس بحران کو قابو پانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم منڈی کا موجودہ رجحان سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک بنا ہوا ہے۔