LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا ایران پر نئے حملے کا حکم، جنگ چھٹے مہینے میں داخل

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے اور سخت حملے کا حکم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج ایران کے توانائی کے اہم اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مسلح تنازع اور کشیدگی اب اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، اور اس دوران صورتحال مزید سنگین ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر بھرپور اور سخت حملے کا حکم دے دیا ہے، جس کے تحت آئندہ چند دنوں میں شدید فضائی کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر ایرانی تنصیبات اور خصوصی طور پر توانائی سے متعلقہ اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی جامع تیاری کر رہے ہیں۔ جنگ کے اس طویل اور خطرناک مرحلے میں خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے تحفظ اور خطے میں حریف قوتوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب، اس صورتحال کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں بشمول غزہ کے تنازع پر بھی عالمی سطح پر تبصرے جاری ہیں۔ الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مطابق، غزہ کے حوالے سے پیش کی جانے والی نئی تجاویز پر بھی مباحثے ہو رہے ہیں لیکن اصل توجہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری محاذ آرائی پر مرکوز ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مجوزہ حملے عمل میں لائے گئے تو تنازع مزید پھیل سکتا ہے جس کے خطے اور عالمی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ایک بڑی تباہی کو روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق تاحال مزید کشیدگی اور جنگ کے تسلسل کی نوید سنا رہے ہیں۔