LIVE
Loading Breaking News...

ناائن الیون اور سعودی ایجنٹ: ایف بی آئی کے کردار پر سوالات

News Image
عمر البیومی نے ہمیشہ انتہا پسند اور سعودی جاسوس ہونے کی تردید کی ہے۔ نائن الیون کے تناظر میں ان کے مبینہ کردار سے متعلق نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناائن الیون کے تاریک واقعے کے دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس سانحے کے مختلف پہلوؤں پر بحث اور تحقیقات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ سوالات ایک بار پھر زور پکڑ رہے ہیں کہ آیا امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی ایف بی آئی نے حملوں میں ایک مبینہ سعودی ایجنٹ کے کردار سے جڑے اہم شواہد کو جان بوجھ کر چھپایا یا نظر انداز کیا۔ اس معاملے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی اور شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس تناظر میں عمر البیومی کا نام ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے جن پر ماضی میں یہ الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر سعودی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہے تھے اور انہوں نے امریکہ میں نائن الیون کے کچھ اغوا کاروں کی معاونت کی تھی۔ دوسری طرف عمر البیومی نے ہمیشہ ان تمام الزامات کی سختر تردید کی ہے اور ان کا یہی موقف رہا ہے کہ وہ نہ تو کسی قسم کے انتہا پسند نظریات کے حامی ہیں اور نہ ہی وہ کبھی کسی سعودی جاسوس کے طور پر سرگرم رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ان کی موجودگی اور دیگر افراد کے ساتھ میل جول کو غلط رنگ دیا گیا ہے اور ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی کوئی مصدقہ یا مضبوط قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اس پورے معاملے پر اب بھی انسانی حقوق کے کارکنوں، متاثرین کے لواحقین اور تفتیشی صحافیوں کی جانب سے شدید تجسس پایا جاتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس سانحے سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات اور فائلیں مکمل طور پر منظر عام پر لائی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ درحقیقت پس پردہ کیا حقائق کارفرما تھے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ایف بی آئی اور دیگر متعلقہ امریکی ادارے اس معاملے پر مکمل شفافیت کا مظاہرہ نہیں کرتے، اس قسم کے سوالات اور سازشی نظریات جنم لیتے رہیں گے۔ اس تنازعے کا طویل المدتی اثر نہ صرف سفارتی تعلقات پر پڑتا ہے بلکہ یہ اس سانحے کے متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید عدالتی کارروائیوں اور دستاویزات کے اجراء کی توقع کی جا رہی ہے جس سے اس مبینہ کردار اور شواہد کی گمشدگی کے اسرار سے مزید پردہ اٹھ سکتا ہے۔