LIVE
Loading Breaking News...

کینسر سروائیورز کی فوٹوگرافی: کیموتھراپی اور بالوں کا گرنا

News Image
کینسر میں مبتلا خواتین کی خوبصورتی اور عزم کو فوٹوگرافی کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد کیموتھراپی کے دوران بالوں کے گرنے کو کمزوری کے بجائے طاقت کی علامت کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔
کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے جو نہ صرف انسان کی جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ خصوصاً خواتین کے لیے کیموتھراپی کے دوران بالوں کا گرنا ایک انتہائی جذباتی اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے جسے وہ اکثر اپنے حسن اور شناخت کے کھو جانے کے طور پر محسوس کرتی ہیں۔ تاہم، دنیا بھر میں اب اس سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے اور کینسر کے خلاف جنگ لڑنے والی بہادر خواتین کے عزم کو ایک نئے انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شروع کی گئی فوٹوگرافی کی ایک منفرد مہم کا مقصد اسی تاثر کو بدلنا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ کیموتھراپی کی وجہ سے جھڑنے والے بال کسی بھی عورت کی کمزوری کا پتہ نہیں دیتے بلکہ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ وہ ایک انتہائی کٹھن جنگ میں پوری قوت اور شجاعت کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں۔ اس مہم کے تحت کینسر سے متاثرہ خواتین کی ایسی تصاویر اور کہانیاں سامنے لائی جا رہی ہیں جو ان کے اندرونی حسن، حوصلے اور زندگی کی تڑپ کو بھرپور انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مریضہ خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں کینسر کے بارے میں پائی جانے والی منفی سوچ اور دقیانوسی تصورات کو بھی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس مہم میں حصہ لینے والی خواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے بال گرتے دیکھے تو انہیں ابتدائی طور پر شدید صدمہ پہنچا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ نشانات ان کی بیماری کے نہیں بلکہ ان کی فتح اور مضبوطی کے استعارہ ہیں۔ فوٹوگرافی کے ذریعے ان لمحات کو قید کرنا ان کے لیے ایک تھراپی کی طرح ہے جس سے انہیں مزید جرات ملتی ہے کہ وہ اس مرض کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ ذہنی سکون اور مثبت سوچ کینسر کے علاج میں ادویات جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ جب مریضہ خواتین کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں اکیلی نہیں ہیں اور معاشرہ ان کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تو ان کی صحت یابی کی رفتار میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔