LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا آتش فشاں دھماکا: ائیرپورٹس بند اور ہزاروں افراد پھنس گئے

News Image
انڈونیشیا میں آتش فشاں کے شدید دھماکے کے بعد دو لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد پھنس گئے ہیں اور حکام نے پروازوں کی معطلی میں مزید توسیع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق دارالحکومت جکارتہ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور واقع ایناک کراکاٹاو جمعے کی رات کو پھٹا تھا۔
انڈونیشیا میں آتش فشاں کے ایک طاقتور دھماکے نے بڑے پیمانے پر نظام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے جس کے نتیجے میں دو لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد مختلف علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے ملک کے اہم ائیرپورٹس کی بندش میں مزید توسیع کا اعلان کر دیا ہے تاکہ راکھ اور دھوئیں کے بادلوں سے فضائی سفر کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ ہنگامی خدمات کے ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ آتش فشاں، جسے ایناک کراکاٹاو کے نام سے جانا جاتا ہے، انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس نے گزشتہ روز جمعے کی دیر رات کو اچانک پھٹنا شروع کیا جس کے بعد فضا میں راکھ کے بلند و بالا بادل پھیل گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کی سرگرمیوں میں تاحال کمی نہیں آئی ہے اور یہ خطہ مسلسل خطرے کی زد میں ہے۔ ائیرلائنز کو پروازیں معطل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں ملکی و غیر ملکی مسافر ائیرپورٹس پر پھنس گئے ہیں۔ حکومتی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ آتش فشاں کے قریب جانے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ متاثرہ علاقوں میں راکھ گرنے کی وجہ سے آمدورفت کے مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اور زرعی زمینوں کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ ارضیات مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ ارضیاتی ہلچل مزید کتنے دن جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ علاقوں کے مکینوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور امدادی ٹیمیں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ صورتحال معمول پر آنے میں چند روز کا وقت لگ سکتا ہے کیونکہ آتش فشاں کا لاوا اور راکھ اب بھی فضائی اور زمینی راستوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔