LIVE
Loading Breaking News...

غزہ سے اسرائیلی انخلا: امن معاہدے کی حقیقت اور عالمی ردعمل

News Image
غزہ میں امن منصوبے اور فوج کے انخلا کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ حماس کے حقیقی ہتھیار ڈالے بغیر انخلا ممکن نہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی رہنماؤں نے اس معاملے پر مخلوط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اسرائیل واقعی اس خطے سے اپنی افواج کا انخلا کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ غزہ سے فوج کی مکمل واپسی اس وقت تک عمل میں نہیں لائی جائے گی جب تک حماس کی طرف سے مکمل اور حقیقی ہتھیار پھینکنے کا عمل یقینی نہیں بنایا جاتا۔ اس حوالے سے مختلف عالمی دارالحکومتوں میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور جنگ بندی کے لیے نئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین پر زور دیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکی قیادت کی جانب سے بھی اس معاہدے کو سراہا گیا ہے، جہاں سابق صدر اور نو منتخب رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس امن منصوبے سے بہت خوش ہے۔ تاہم، حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان اب بھی متعدد امور پر شدید اختلافات اور رکاوٹیں حائل ہیں جو معاہدے کی راہ میں بڑی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں دیرپا امن اس وقت تک خواب ہی رہے گا جب تک فریقین کے مابین زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاتا۔ اسرائیل جہاں اپنی سلامتی کے مطالبات پر بضد ہے، وہیں حماس اور فلسطینی عوام بھی اپنی خودمختاری اور حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس انسانی بحران کے حل کے لیے غیر جانبدارانہ اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرے تاکہ خطے میں خون خرابے کا سلسلہ بند ہو سکے۔