World
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ جلد طے پانے کا امکان
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں محفوظ راستوں کے تعین کے لیے مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور تیل کی ترسیل کے لیے محفوظ راستوں کے تعین سے متعلق مذاکرات انتہائی اہم اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے مابین اس حوالے سے حتمی سمجھوتہ اب محض چند دنوں کی بات ہے۔ اس پیشرفت سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور تجارتی سرگرمیوں کو بحال رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اسٹریٹجک اور اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل دنیا بھر کو بھیجا جاتا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے سامنے آتے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل دو ڈالر تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور سپلائی چین کے خدشات بھی کم ہوں گے۔ امریکی حکام نے بھی اس معاملے پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ جلد ہی اس اہم سمندری راستے کے حوالے سے کوئی مثبت پیشرفت سامنے آ جائے گی۔ سفارتی ذرائع کا ماننا ہے کہ ایران اور عمان کے مابین یہ تعاون خطے میں امن اور تجارت کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جس پر عالمی برداری کی بھی گہری نظر ہے۔