World
یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملے، تازہ جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد جاں بحق
یمن میں سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں اور فضائی حملوں میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک کے جنوب مغرب میں واقع شہر تعز ایک بار پھر بڑی جنگ کا میدان بن گیا ہے۔
یمن کے مختلف علاقوں میں سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تناؤ میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمنی حکومت کی فورسز نے حوثی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے طاقتور فضائی کارروائیاں کی ہیں، جن کا مقصد باغیوں کے پیش قدمی کے راستوں کو روکنا ہے۔ ان حالیہ جھڑپوں اور فضائی حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر ساٹھ سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ملک کا جنوب مغربی علاقہ اور بالخصوص تاریخی شہر تعز ایک بار پھر اس تازہ جنگ کا اہم ترین میدان بن کر ابھرا ہے۔ مقامی ذرائع اور خبر رساں اداروں کے مطابق تعز اور اس کے گردونواح میں دونوں فریقین کے مابین شدید لڑائی جاری ہے، جہاں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی جھڑپیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمن کے مغربی محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے، جو حوثی مخالف فورسز کے اتحاد اور ان کی باہمی یکجہتی کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین فوجی کارروائیوں سے ملک میں ایک بار پھر مکمل جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق یمن میں جاری اس طویل تنازعے کا کوئی فوری سیاسی حل نظر نہیں آ رہا ہے، اور فریقین ایک بار پھر میدانِ جنگ کا رخ کر رہے ہیں۔ حوثی باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کے اس نئے سلسلے نے عام شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے یمن کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے فوری طور پر تشدد کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔