World
آبنائے ہرمز میں ایران کا نیا اخراجی زون اور عالمی منڈی پر اثرات
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا اخراجی زون قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سمندری حدود میں کنٹرول کو وسعت دی جائے گی۔ اس اقدام سے عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ وہ خلیج فارس کے انتہائی حساس تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا 'اخراجی زون' (exclusion zone) قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس مجوزہ قدم کا مقصد اس اہم سمندری گزرگاہ پر تہران کے اثر و رسوخ اور کنٹرول کو مزید وسعت دینا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق اس حوالے سے ایک نئے راہداری معاہدے پر بھی آنے والے دنوں میں دستخط کیے جائیں گے۔
دوسری جانب اس پیشرفت کے فوری بعد عالمی منڈی میں توانائی کے شعبے پر شدید دباؤ دیکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب اس ممکنہ پابندی والے زون اور سکیورٹی خدشات کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے معاشی ماہرین اور توانائی کے تجزیہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل بردار بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل درآمد و برآمد کیا جاتا ہے۔
تہران کی جانب سے اس حکمت عملی کا مقصد سمندری سکیورٹی کے ضوابط کو سخت کرنا اور خطے میں اپنی دفاعی موجودگی کو منوانا ہے۔ تاہم، عالمی طاقتوں اور خلیجی ممالک کے لیے یہ صورتحال سخت تشویش کا باعث بن چکی ہے کیونکہ کسی بھی قسم کی مسلح یا انتظامی رکاوٹ سے بین الاقوامی تجارت مفلوج ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ایران اس اخراجی زون کو کس حد تک عملی جامہ پہناتا ہے اور اس کے عالمی سمندری سلامتی پر کیا اور کتنے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔