Pakistan
سابق سینیٹر مشتاق احمد کو اسلام آباد اے ٹی سی سے ضمانت مل گئی
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے آزاد کشمیر کے احتجاجی مظاہرے کے تنازع میں سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 96 ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد تمام ملزمان کو بڑی قانونی راحت مل گئی ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے حوالے سے کیے گئے احتجاجی مظاہرے کے مقدمے میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور 95 دیگر افراد کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو قانونی حلقوں میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں نامزد افراد کو اس کیس میں بڑی ریلیف ملی ہے۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ آزاد کشمیر کے حق میں اور کشمیر کی آواز بلند کرنے کے لیے نکالے گئے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد درج کیا گیا تھا جس میں پولیس نے متعدد مظاہرین اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی کے تحت دفعات شامل کی تھیں۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر کارکنان پر امن احتجاج کے دوران مبینہ طور پر بدنظمی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جن کی دفاعی ٹیم نے عدالت میں سختر تردید کی تھی۔
عدالت میں سماعت کے دوران وکلا صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکلین پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ پرامن احتجاج کا جمہوری حق استعمال کر رہے تھے۔ دلائل سننے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے مشتاق احمد اور دیگر 95 ملزمان کی ضمانت منظور کرنے کا حکم صادر کیا۔
اس عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ وکلا کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بنیادی حقوق اور پرامن احتجاج کے حق کی پاسداری مزید مضبوط ہوگی۔ عدالتی کارروائی کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور فیصلہ آتے ہی تمام متعلقہ فریقین نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔