LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ نقشہ تنازع: پاکستان اور بھارت آمنے سامنے

News Image
اقوام متحدہ میں نقشے سے متعلق ایک ووٹنگ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع خطے کی حیثیت پر ایک بار پھر سفارتی محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان نے بھارتی دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر عالمی برادری اور او آئی سی کو خطوط بھی ارسال کیے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایک نئے نقشے پر ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کشمیر پر ایک بار پھر شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے نے ایک بار پھر اس دیرینہ اور حساس تنازعے کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا ہے، جس پر دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس رائے شماری کے بعد سے خطے میں ایک بار پھر لفظی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں اطراف سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوؤں کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ اور اعلیٰ حکام کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا باقی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان نے او آئی سی (تنظیم تعاون اسلامی) کے سربراہ کو بھی ایک تفصیلی خط حوالے کیا ہے، جس میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور بھارتی اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے واقعات خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کرتے ہیں اور دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو بے نقاب کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس سفارتی کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ خطے کے امن کے لیے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔