World
امریکہ کا ایران پر ایٹمی عدم تعمیل کے معاملے پر سفارتی دباؤ
امریکہ نے ایران کی جانب سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے قوانین کی عدم تعمیل پر تہران کے خلاف سفارتی دباؤ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ایران کی جوہری پالیسیوں کے خلاف سخت لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے تہران کی جانب سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اصولوں کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ایران کے خلاف سفارتی دباؤ کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ قدم عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام کو لگام دینے اور اس کی جانب سے کی جانے والی مبینہ خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران کا رویہ عالمی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے اور اس حوالے سے اب مزید نرمی نہیں برتی جائے گی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس نئی سفارتی حکمت عملی کے تحت امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر ایران کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز پیش کرے گا۔ واشنگٹن کا مقصد یہ ہے کہ تہران پر اقتصادی اور سفارتی دونوں محاذوں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ اسے اپنے متنازع ایٹمی عزائم سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس حوالے سے یورپی ممالک سے بھی مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے جو زیادہ سے زیادہ مؤثر ثابت ہو۔
دوسری جانب، تہران کی حکومت نے ہمیشہ کی طرح ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑھایا جانے والا یہ سفارتی دباؤ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا اور اس کے منفی اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا یہ تازہ ترین باب خطے کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ جیسے جیسے سفارتی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔