Entertainment
سوزن سارینڈن: فلسطین کی حمایت پر ہالی ووڈ میں فلمی کرداروں سے محرومی
آسکر ایوارڈ یافتہ مشہور امریکی اداکارہ سوزن سارینڈن نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر کھل کر تنقید کرنے اور فلسطین کی حمایت کرنے کی وجہ سے انہیں ہالی ووڈ میں اہم فلمی کرداروں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خیالات کی وجہ سے ان سے کئی فلمی پراجیکٹس واپس لے لیے گئے ہیں۔
ہالی ووڈ کی مشہور آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فلسطین کی حمایت کرنے اور غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ پر کھل کر تنقید کرنے کی وجہ سے انہیں فلمی دنیا میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ اس موقف کی وجہ سے ان سے ہالی ووڈ میں اہم فلمی کردار چھین لیے گئے ہیں اور انہیں پیشہ ورانہ طور پر بلیک لسٹ کرنے جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوزن سارینڈن کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ انہوں نے مختلف احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اداکارہ کا ماننا ہے کہ سچ بولنے اور مظلوموں کی آواز اٹھانے کی ایک بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے اور وہ یہ قیمت چکانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلمی صنعت میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے کیریئر کے خاتمے کا خوف ہوتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہالی ووڈ میں سیاسی موضوعات بالخصوص فلسطین کے معاملے پر دوغلا پن پایا جاتا ہے جہاں سیاسی بنیادوں پر فنکاروں کو کام سے روکنا آزادیِ اظہار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب سوزن سارینڈن کے اس انکشاف کے بعد دنیا بھر میں ان کے مداحوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے ان کی جرأت کو سراہا جا رہا ہے جبکہ فلمی صنعت کے اندر موجود سنسرشپ کے نظام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔