AI
اوپن اے آئی کا انتباہ: دنیا اے آئی کے نتائج کے لیے تیار نہیں
اوپن اے آئی کے اعلیٰ عہدیدار نے مصنوعی ذہانت کی رفتار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انسانیت اس کے ممکنہ نتائج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ بیان کمپنی کی جانب سے اپنے سب سے طاقتور ترین پروڈکٹ جی پی ٹی 6 آسترا کے اجراء کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف سائنسٹسٹ نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ موجودہ دنیا مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ترقی اور اس کے دور رس نتائج کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی نے اپنی تاریخ کی سب سے طاقتور ترین پروڈکٹ جی پی ٹی 6 آسترا کو باضابطہ طور پر ریلیز کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی یہ نئی لہر انسانی معاشرے، معیشت اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ اوپن اے آئی کا نیا ماڈل جی پی ٹی 6 آسترا اپنی پچھلی جنریشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید، تیز رفتار اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ پروڈکٹ اے آئی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے سائنسی تحقیقات سے لے کر کاروباری آٹومیشن تک کے شعبوں میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔ تاہم، اس بے پناہ طاقت کے ساتھ ساتھ تکنیکی ماہرین اور محققین میں یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ اتنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کے لیے جو حفاظتی اقدامات درکار ہیں، وہ ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ چیف سائنسٹسٹ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر کی حکومتیں اور ادارے اے آئی کے حوالے سے ضابطہ اخلاق اور قوانین بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے مناسب حکمت عملی طے نہ کی گئی تو مصنوعی ذہانت کے معاشرتی اور معاشی نتائج توقع سے کہیں زیادہ تباہ کن یا غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں اوپن اے آئی پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نئے ماڈلز کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی کے سخت ترین پروٹوکول نافذ کرے۔