LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی پارٹی کی انتخابی کامیابی

News Image
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی نے ریاستی انتخاب میں کامیابی کے بعد دیگر جماعتوں سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے اکثریت سے تین نشستیں کم رہنے کے باوجود حکومت بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
برلن: جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'آلٹرনেٹیو فار جرمنی' (AfD) نے حالیہ ریاستی انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اب ان کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ خطے میں ایک مستحکم حکومت تشکیل دی جا سکے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پارٹی نے ریاستی انتخاب میں تاریخی کامیابی حاصل کی مگر وہ مطلوبہ اکثریت سے محض تین نشستیں پیچھے رہ گئی۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اب کسی بھی جمہوری عمل کے تحت اے ایف ڈی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اے ایف ڈی کی جانب سے حکومت سازی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اگرچہ روایتی طور پر جرمنی کی دیگر مرکزی سیاسی جماعتیں انتہائی دائیں بازو کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں، تاہم تازہ ترین انتخابی نتائج کے بعد سیاسی میدان میں گہما گہمی بڑھ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اکثریت کے قریب پہنچنے کے بعد اے ایف ڈی کے پاس دیگر چھوٹے گروپس یا قانون سازوں کو اپنے ساتھ ملانے کے علاوہ کوئی بڑا آپشن نہیں ہے، لیکن مرکزی جماعتوں کی طرف سے اب تک مزاحمت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جرمن سیاست میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کا اس سطح پر ابھرنا روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اے ایف ڈی کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ جمہوریت کا احترام کرتے ہوئے ووٹرز کے فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور کسی بھی جماعت کو حکومت سے باہر رکھنے کے لیے مصنوعی بندبست نہیں کرنا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دیگر جماعتیں دباؤ میں آکر اے ایف ڈی کے ساتھ کسی قسم کے سیاسی تعاون پر آمادہ ہوتی ہیں یا پھر ریاست میں حکومت سازی کا عمل تعطل کا شکار رہتا ہے۔