Business
جاگوار لینڈ روور کی جانب سے تبدیلی اور ملازمین کی چھانٹی کا فیصلہ
برطانوی لگژری کار ساز ادارہ جاگوار لینڈ روور شدید مالی دباؤ، چینی مارکیٹ میں سخت مسابقت اور گرتی ہوئی فروخت کا سامنا کر رہا ہے۔ کمپنی نے اس کڑے وقت میں الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کے عمل کو تیز کرنے اور انتظامی تبدیلیوں کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔
برطانیہ کی مشہور لگژری کار ساز کمپنی جاگوار لینڈ روور (JLR) نے حالیہ دنوں میں ایک اہم اور مشکل ترین فیصلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کمپنی کے اندرونی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور ساتھ ہی نوکریوں میں بھی کٹائی کی جا رہی ہے۔ آٹوموبائل انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب کمپنی کو دنیا بھر میں گاڑیوں کی گرتی ہوئی فروخت اور خاص طور پر چینی مارکیٹ سے ملنے والی شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ جاگوار لینڈ روور جیسی بڑی برطانوی برانڈ کے لیے یہ تبدیلیاں بقا کی جنگ کی مانند بن چکی ہیں۔ موجودہ دور میں روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی مانگ میں کمی واقع ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں ماحول دوست گاڑیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں کمپنی کو اپنے روایتی نظام کو خیرباد کہہ کر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی طرف تیزی سے بڑھنا پڑ رہا ہے، جس پر بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے اس کٹھن اور مہنگے عمل نے کمپنی کے مالیاتی نظام پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ چینی آٹو میکرز کی جانب سے مارکیٹ میں کم قیمت اور جدید فیچرز والی الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی نے روایتی یورپی برانڈز کے لیے مقابلے کی فضا کو مزید تنگ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاگوار لینڈ روور کو اپنے اخراجات کم کرنے اور کاروباری حکمت عملی کو از سر نو ترتیب دینے کے لیے ملازمین کی تعداد میں کمی کا تلخ فیصلہ کرنا پڑا۔ کمپنی کے ترجمان کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلے وقتی طور پر تکلیف دہ ہیں لیکن مستقبل میں ایک مستحکم، جدید اور الیکٹرک گاڑیوں پر مبنی ادارے کے طور پر ابھرنے کے لیے یہ تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف مالیاتی بحران سے نکلنا ہے بلکہ مستقبل کی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ مستحکم کرنا بھی ہے۔