World
راتکو ملادیچ کا جنازہ: سربیا میں ہزاروں افراد کی شرکت اور یورپی یونین کی وارننگ
بوسنیا جنگ کے دوران نسل کشی کے جرم میں سزا پانے والے جنگی مجرم راتکو ملادیچ کے جنازے میں سربیا میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یورپی یونین نے سربیا کو متنبہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح کے جنگی مجرموں کی تحسین یا جلالت سے گریز کریں۔
سربیا میں 1990 کی دہائی کی بوسنیا جنگ کے دوران نسل کشی کے جرائم میں عمر قید کی سزا پانے والے راتکو ملادیچ، جنہیں بسا اوقات بوسنیا کا قصائی بھی کہا جاتا ہے، کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور یورپی یونین کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ راتکو ملادیچ کو بین الاقوامی مجرمانہ ٹریبونل برائے سابق یوگوسلاویہ کی جانب سے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف دیگر سنگین جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جنہیں دوران قید ہی ان کے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جنازے کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی نے خطے میں ماضی کے تلخ تنازعات اور قوم پرست جذبات کے اب بھی زندہ ہونے کی عکاسی کی ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین نے سربیا کے حکام کو پہلے ہی سخت الفاظ میں متنبہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کی تحسین یا جلالت سے گریز کریں جسے بین الاقوامی عدالتوں نے جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا ہو۔ یورپی یونین کے مطابق، اس طرح کے اقدامات خطے میں امن، مصالحت اور باہمی تعاون کے عمل کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سربیا کو اس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنگی جرائم کے مجرموں سے دوری اختیار کرے اور ماضی کے تلخ ابواب کو بند کرنے کی کوشش کرے۔ مقامی اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلقان کے خطے میں نسلی اور سیاسی تقسیم اب بھی گہری ہے اور امن کے قیام کے لیے ابھی مزید طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ مبصرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سربیا کی قیادت کو ایسے مواقع پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے تاکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہوں اور خطے میں استحکام کو فروغ مل سکے۔