LIVE
Loading Breaking News...

بلغراد فٹ بال میچ میں جنگی مجرم راتکو ملادچ کی تعریف پر تبصرہ

News Image
ریڈ سٹار کے فٹ بال شائقین کی طرف سے سزا یافتہ جنگی مجرم راتکو ملادچ کو خراج تحسین پیش کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہی اصل بنیادی مسئلہ ہے۔
بلغراد میں منعقد ہونے والے ایک حالیہ فٹ بال میچ کے دوران ریڈ سٹار کلب کے شائقین نے بوسنیا کی جنگ کے دوران سبرینکا میں ہونے والی ہولناک نسل کشی کے جرم میں سزا یافتہ جنگی مجرم راتکو ملادچ کی حمایت میں نعرے بازی کی اور اسے خراج تحسین پیش کیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کے تلخ ماضی کو پیچھے چھوڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر کھیلوں کے میدانوں میں اس طرح کے رجحانات نے ایک بار پھر پرانے زخموں کو تازہ کر دیا ہے۔ سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شائقین کی طرف سے جنگی مجرموں کی اس قسم کی کھلم کھلا حمایت کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ گزشتہ کئی سالوں سے وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہے، اور یہی اصل پریشان کن مسئلہ ہے۔ ماضی کے جنگی جرائم کی تائید اور مجرموں کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کا یہ رویہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاشرے کے ایک بڑے حصے میں انتہا پسندانہ سوچ ابھی تک جڑ پکڑے ہوئے ہے۔ تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جب تک ریاست اور کھیل کی انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اور واضح اقدامات نہیں کرتی، اس قسم کے واقعات کا اعادہ ہوتا رہے گا۔ اس طرح کے رویے نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ کھیلوں کے میدان کو امن، بھائی چارے اور تفریح کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جب اس طرح کی تقاریب کو نفرت انگیز نظریات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ کھیلوں کی بنیادی روح کے بھی منافی ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ ایسے رجحانات کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اپنائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو نفرت اور تعصب کی اس آگ سے بچایا جا سکے جو ماضی میں اس خطے کو تباہ کر چکی ہے۔