LIVE
Loading Breaking News...

روس یوکرین امن مذاکرات: ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششیں

News Image
وٹکوف اور کشنر کے دورہ ماسکو اور کیف سے فوری طور پر کوئی بڑا سفارتی بریک تھرو حاصل نہیں ہو سکا۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کوششیں خطے میں امن کے ایک نئے عمل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کو ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں حالیہ دنوں میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو اور کیف کے اہم دورے کیے ہیں۔ اگرچہ ان دوروں کے نتیجے میں فریقین کے درمیان کوئی فوری یا بڑا سفارتی بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں مستقبل میں امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماسکو اور کیف دونوں دارالحکومتوں میں ہونے والی ان بات چیت کا بنیادی مقصد فریقین کے مابین موجود خلیج کو کم کرنا اور بات چیت کے دروازے کھولنا ہے۔ یوکرین میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران نے عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر جنگ کے جلد از جلد خاتمے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی مباحثوں اور بیانات میں بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی اس تنازع کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وٹکوف اور کشنر کا یہ دورہ اسی سمت میں ایک ابتدائی قدم سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے مؤقف کو قریب لانا ہے۔ اگرچہ روس اور یوکرین کے درمیان بنیادی مطالبات میں اب بھی زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، لیکن اس طرح کے پس پردہ رابطے ہی اکثر طویل المدتی جنگوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کا سبب بنتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا واشنگٹن کی یہ نئی سفارتی کوششیں فریقین کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر امن مذاکرات کی طرف لانے میں کتنی کامیاب ہو پاتی ہیں۔