World
غزہ میں اسرائیلی حملے: بچوں سمیت پانچ فلسطینی شہید
غزہ پر ہونے والے تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں دو بچوں سمیت پانچ فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں ایک کمسن بچی اور اس کے والد اسکول کا سامان لے کر گھر واپس جاتے ہوئے نشانہ بنے۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری بمباری کا سلسلہ تھم نہ سکا، اور تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں دو بچوں سمیت پانچ فلسطینی شہید ہو گئے۔ معصوم شہریوں پر ہونے والے ان حملوں نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے خاموشی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق شہداء میں ایک سات سالہ بچی اور اس کے والد بھی شامل ہیں جو اسکول کا نیا سامان خرید کر اپنے گھر واپس جا رہے تھے کہ اس دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔
اس دلخراش واقعے نے پورے علاقے میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ اچانک ہوا اور اسکول کے سازوسامان کے ساتھ گھر لوٹنے والے معصوم افراد کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ طبی عملے کے مطابق اس حملے میں دیگر کئی افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے غزہ میں معصوم شہریوں اور بالخصوص بچوں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور اسکول کے بچوں تک کو نہیں بخشا جا رہا۔ عالمی اداروں نے فوری طور پر فائر بندی اور غزہ کے محاصرے میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد اور متاثرہ خاندانوں تک امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔
غزہ میں جاری اس تازہ ترین خون خرابے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فلسطینی عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس بربریت کا نوٹس لیں اور اسرائیل کو جنگی جرائم کا جوابدہ بنائیں۔ ادھر اسرائیلی فوج کی طرف سے اس واقعے پر تادم تحریر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ معصوم شہریوں کی جانیں جانے کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے جو خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔