LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں ویکسین کی قلت: لاکھوں بچوں کے لیے طبی خطرات

News Image
یمن میں فریقین کے درمیان تنازعات کے نتیجے میں پانچ ملین سے زائد بچے ضروری حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر طبی اداروں اور امدادی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جنگ اور اندرونی تنازعات کے شکار ملک یمن میں صحت کا شعبہ ایک اور بڑے بحران کی زد میں آ گیا ہے، جہاں لاکھوں معصوم بچوں کو زندگی بچانے والی ویکسینز کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمن میں تقریباً پانچ ملین بچے ضروری اور معمول کی حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہو رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی طبی اداروں اور فلاحی تنظیموں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت ویکسینیشن نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں مختلف موذی اور وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پس منظر میں مقامی اور بین الاقوامی تنازعات بتائے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے طبی سامان اور ویکسین کی فراہمی کے نظام میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ یمن کا صحت کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی سالوں کی جنگ کی وجہ سے تباہ حالی کا شکار ہے، اور اس تازہ ترین قلت نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ امدادی کارکنوں اور فلاحی اداروں نے اس صورتحال پر دل شکستہگی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر فریقین نے تعاون نہ کیا اور طبی امداد کی ترسیل بحال نہ کی گئی، تو آنے والے دنوں میں بچوں کی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ ادارے یمن میں بچوں کی اس ابتر حالت پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں مگر زمینی حقائق کے پیش نظر رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ طبی ماہرین کا پرزور مطالبہ ہے کہ صحت کے اس شعبے کو سیاست اور تنازعات سے بالاتر رکھا جائے تاکہ معصوم بچوں کو خطرناک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ عالمی برادری سے یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر یمن کے لیے ویکسین کی ہنگامی کھیپ روانہ کرے تاکہ اس انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور لاکھوں بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔