World
عراق میں امریکی اتحاد کا انخلا اور ملکی خودمختاری کے چیلنجز
امریکہ کی قیادت والے اتحادی دستوں کے انخلا کا وقت قریب آنے پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عراق کو شدید سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی خودمختاری کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگی۔
بغداد: امریکہ کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے انخلا کی آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی عراق کو ایک بار پھر سنگین نوعیت کے سیکیورٹی اور سیاسی امتحانات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور سیکیورٹی امور کے ماہرین نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اتحادی افواج کی واپسی کے بعد ملکی دفاعی ڈھانچے اور اندرونی استحکام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ عراق کی حکومت اور عسکری قیادت اس منتقلی کے عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے میں موجود طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس انخلا کے عمل کا مقصد عراقی سیکیورٹی فورسز کو مکمل خود مختاری اور دفاعی ذمہ داریاں سونپنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی خطرات بھی سر اٹھا سکتے ہیں۔ ملک کے اندر مختلف سیاسی اور عسکری گروہوں کے درمیان طاقت کی رسہ کشی اس عبوری دور میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے جمہوری عمل اور ریاستی رٹ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں عراقی حکومت کے لیے تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی برادری بالخصوص خطے کے دیگر ممالک بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے مفادات اور اثر و رسوخ کے تناظر میں عراق کا یہ خودمختاری کا امتحان نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ عراقی عوام اور سیاسی قیادت کو آنے والے دنوں میں دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ ملک کو کسی بھی نئے بحران سے محفوظ رکھا جا سکے اور دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔