World
نکاراگوا کا جرمنی پر غزہ نسل کشی کی حمایت کا الزام، عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ
نکاراگوا نے جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کی حمایت کر کے نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس معاملے پر عالمی عدالتِ انصاف میں باضابطہ سماعت کا آغاز ہو چکا ہے جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھوٹی ہے۔
لاطینی امریکی ملک نکاراگوا نے باضابطہ طور پر جرمنی کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ برلن حکومت اسرائیل کو سیاسی، مالی اور عسکری امداد فراہم کر کے غزہ میں جاری نسل کشی میں شریک ہے۔ نکاراگوا کا کہنا ہے کہ جرمنی کا یہ اقدام 1948 کے جینسائڈ کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ نکاراگوا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی احکامات جاری کرے تاکہ جرمنی اسرائیل کو ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان کی فراہمی بند کرے۔ نکاراگوا کے مطابق جرمنی کی جانب سے اسرائیل کو مسلسل دفاعی و عسکری مدد دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس انسانی المیے میں برابر کا شریک ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال میں بڑی طاقتوں اور مغربی ممالک کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ دوسری جانب جرمنی نے نکاراگوا کے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اس نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا ہے اور وہ اسرائیل کے دفاع کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ جرمنی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ نکاراگوا کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور عدالت کو اس مقدمے کو مسترد کر دینا چاہیے۔ اس مقدمے کی سماعتوں کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں نے اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیے ہیں، اور دنیا بھر کی نظریں اب عالمی عدالتِ انصاف کے آئندہ فیصلوں اور احکامات پر مرکوز ہیں۔