LIVE
Loading Breaking News...

راتکو ملاڈچ کی سربیا میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین

News Image
سربیا کے دارالحکومت میں سزا یافتہ جنگی مجرم راتکو ملاڈچ کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ عمل میں آئی ہے۔ اس تقریب میں ملک کی سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں حمایتی بھی شریک ہوئے۔
سربیا کے دارالحکومت میں بلقان جنگ کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب قرار دیے جانے والے اور سزا یافتہ شخصیت راتکو ملاڈچ کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہیں۔ اس تدفین کے موقع پر دارالحکومت کے مختلف حصوں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ راتکو ملاڈچ کو بین الاقوامی عدالت کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائیں سنائی گئی تھیں، جن کی وجہ سے ان کی شخصیت اور تدفین کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی کافی حساس نوعیت کا حامل رہا ہے۔ تدفین کی اس تقریب میں خاندان کے افراد کے علاوہ سربیا کی کئی سیاسی شخصیات، قوم پرست رہنما اور ان کے ہزاروں حامیوں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران شرکاء کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی اور ان کی خدمات کو سراہا گیا، جبکہ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس سرکاری سطح پر تدفین اور اعزازات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کے مجرم کو اس طرح سرکاری اعزازات دینا خطے میں امن اور مصالحتی کوششوں کے لیے ایک منفی پیغام ہے۔ راتکو ملاڈچ بلقان جنگ کے دوران سرب فوج کے کمانڈر رہے تھے اور ان پر بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور بالخصوص سربرینیتسا قتل عام میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔ طویل عرصے تک مفرور رہنے کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل برائے سابق یوگوسلاویہ نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان کی زندگی اور اب موت دونوں ہی بلقان خطے کی پیچیدہ تاریخ اور نسلی تنازعات کی یاد دلاتی ہیں جو آج بھی سیاسی اور سماجی سطح پر گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے مسلسل بیانات سامنے آ رہے ہیں جن میں خطے کے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ماضی کے تلخ حقائق سے سبق سیکھیں اور جنگی جرائم کے مجرموں کی تحسین کے بجائے متاثرین کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں۔ دریں اثنا، سربیا کے حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے تاکہ حالات قابو سے باہر نہ ہوں۔