LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا خطرہ: اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ کی انتباہی رپورٹ

News Image
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ایک بڑا بقائی خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک اور اداروں پر زور دیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے سے پہلے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ نوعیت کی تنبیہ جاری کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہ جدید ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے ایک 'بقائی خطرہ' (existential risk) میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کا بروقت ادراک کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس سے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے اور انسانی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ چند بڑی تکنیکی کمپنیاں اس شعبے پر تقریباً لامحدود اختیار رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ معروف اے آئی ماہر یوشوا بینگیو نے بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ انسانیت کو درپیش خطرات اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکے ہیں۔ ان حالات میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کا یہ بیان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتیں اور عالمی ادارے مل کر ایسے سخت ضابطے اور قواعد و ضوابط مرتب کریں جو اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روک سکیں۔ مصنوعی ذہانت جہاں ایک طرف بے پناہ معاشی اور سائنسی فوائد کی حامل ہے، وہیں دوسری طرف اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے سماجی ناہمواری اور سکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس تازہ ترین انتباہ نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ انسانیت کو محفوظ بنانے کے لیے ابھی سے ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے۔