World
غزہ امن روڈ میپ کی ناکامی اور دو ریاستی حل کا بحران
غزہ پیس بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ امن روڈ میپ کی ناکامی خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو ختم کر دے گی۔ اس صورتحال میں مشرق وسطیٰ کا دیرینہ دو ریاستی حل ہمیشہ کے لیے ناممکن بننے کا خدشہ ہے۔
غزہ پیس بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بین الاقوامی برادری کو ایک شدید تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ امن روڈ میپ پر کامیابی سے عمل درآمد نہ کیا گیا تو مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر کے رہنما پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور فریقین کے پاس امن کا موقع ضائع کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
ذرائع کے مطابق یہ وارننگ غزہ میں جاری انسانی بحران اور جنگ بندی کی کوششوں کے تناظر میں دی گئی ہے۔ پیس بورڈ کے عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کا واحد پائیدار حل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو اسرائیل کے ساتھ پرامن طریقے سے رہ سکے۔ اگر موجودہ سفارتی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوئیں اور روڈ میپ ناکام ہو گیا، تو زمینی حقائق اتنے تبدیل ہو جائیں گے کہ مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے کسی بھی समझौते کی گنجائش باقی نہیں رہے گی اور خطہ طویل المدتی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔
عالمی سطح پر اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ مختلف ممالک اور ادارے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بار پھر سرگرم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے اس معاملے پر فوری اور فیصلہ کن کردار ادا نہ کیا، تو دو ریاستی حل کی موت کے بعد خطے میں تشدد کا ایک نیا اور خطرناک دور شروع ہو سکتا ہے۔ غزہ پیس بورڈ نے تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور امن کے اس نازک موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔