Business
عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، گولڈمین سیکس کی پیشگوئی
بین الاقوامی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری حملے نہ رکے تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکہ ایران تنازعے کے باعث عالمی سطح پر رسد میں خلل کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی سطح پر معاشی امور کی معروف فرم گولڈمین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 120 ڈالر کی سطح کو چھو سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی رسد کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شدت آنے کے بعد تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز جو کہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، وہاں ہونے والے تازہ ترین حملوں نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اہم تجارتی راستے کو بند کیا گیا یا یہاں نقل و حرکت میں طویل تعطل پیدا ہوا تو دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہو گی جس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے سبب تیل پیدا کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی منڈیوں پر گہرے سائے منڈلا رہے ہیں۔ کاروباری تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کے شرکاء اس صورتحال پر بڑی باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ذرا سا بھی عسکری انحراف قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس طرح کا اچانک اضافہ عالمی معاشی بحالی کے عمل کو سست کر سکتا ہے اور دنیا بھر کے عام صارفین کے لیے بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں ہوشربا اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔