LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی وزیر خزانہ کی معاشی پالیسیاں اور ٹیکسوں میں اضافے پر اثرات

News Image
برطانیہ کی نئی قیادت معیشت میں اعتماد بحال کرنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں آنے والے وقت میں ٹیکسوں میں بڑے اضافے کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کی نئی سیاسی اور معاشی قیادت اس وقت ملکی معیشت میں کاروباری اعتماد بحال کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں مثبت وائبز پیدا کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند رہیں اور ملک میں تجارتی سرگرمیاں بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اس سمت میں گامزن ہیں جو ٹیکسوں میں مزید بڑے اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے معیشت کے فروغ کے لیے ایسے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے جس سے کاروباری طبقے کو ریلیف ملے اور وہ بلا جھجھک نئی سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوں۔ معاشی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکسوں میں حد سے زیادہ اضافہ کیا گیا تو اس سے مارکیٹ میں منفی پیغامات جائیں گے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ لہذا، نئی قیادت احتیاط کا دامن تھامے ہوئے ہے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو معاشی رفتار کو سست کر سکیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی ہدف معیشت کے اندر 'اقتصادی حیوانی روح' یا یعنی کاروباری جوش و خروش کو بیدار رکھنا ہے۔ جب تک نجی شعبہ اور سرمایہ کار پراعتماد رہیں گے، ملک میں پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں بہتری کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اشارے بھی دیے جا رہے ہیں کہ طویل المدتی استحکام کے لیے معاشی ترقی کو ٹیکسوں کے بوجھ پر فوقیت دی جائے گی، جس سے عوام اور کاروباری اداروں دونوں کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی امید ہے۔